Tuesday, 2 May 2017

اے ا بنِ آدم جواب دوگے؟


اے ا بنِ آدم جواب دوگے؟

By: Samaa Web Desk
569c67b9e0ab9
تحریر : سیدہ سعدیہ
اے ا بنِ آدم کیا حوا کی بیٹی وہ جس ارزاں ہے کہ جیسے تم گھر میں عزت کی روٹی مُسیر نہ ہونے پر اپنی عزت دار کمائی کے لیے بیچ دو،تم قتل کرو اوراُسے خون بہابنا کر پیش کر دو، اپنے خود ساختہ انا کے لیے سالوں لڑائیاں لڑواور جب ہار جاؤ تو اُسے صلح کا نذرانہ بنا کر پیش کر دو، تم اُسے جانوروں کی طرح بیچو، خریدواور جب وہ تمھاری نام نہادعزت پر اپنی خوشی اور بچاؤ کو فوقیت دے تو اُسے خاندان کے نام پر سیاہ داغ کہہ کر مار ڈالو۔ درجات کی یہ معراج تمھیں کب سُونپی گی کہ اس مسند پر بیٹھ کر تم بیتِ حوا کی موت اور زندگی کے فیصلے کرو۔ کس شریعت اور نظام نے حوا کی بیٹی کی عزت ، وقار اور زندگی کو اتناارزاں کیا کہ کہیں وہ باپ اور بھائی کے ہاتھوں قتل ہوئی ۔ کہیں شیطان صفت ابنِ آدم کے ہاتھوں جلاڈالی گی،کہیں معززین کے فیصلے پر کاری کر دی گئی ، کہیں اُس کی صورت تیزاب سے مسخ کر دی گئی ، مگر ہر بارالزام حوا کی بیٹی کے سر آیا۔
honor-killing1
وہ ماری گئی کیوں کہ خاندان کی عزت داؤ پر لگی تھی ، وہ جلادی گئی ، کاری کر دی گئی کیونکہ اُس کی بُرائیاں عزت مندمردوں کی عزت پر سوالیا نشان تھیں، اُسے تیزاب میں نہلا دیا گیاکیو نکہ وہ بدکار تھی ۔ ظلم و بر بریت کی ہر داستان میں بری ہو جانے والا تو بس آدم کا بیٹا ہے، جس کی غیرت اور عزت کا معیار اُس کے ذاتی کردار کی سیاہیاں اور غلاظتیں نہیں بلکہ اُس کی بہن اور بیٹی کے اعمال ہیں۔ تعفن ذرہ شخصیت اورسیاہی میں ڈوبے کردار کے مالک شخص کی عزت پر کوئی آنچ نہیں آتی بھلے اُس کی ہر شام ، ہر رات مے خانو ں اور مہ جبینوں کے ساتھ گزرے مگر جونہی بات بہن یا بیٹی کی مرضی سے شادی یا تعلیم کی ہواُس کا دامن غیرت تار تار ہونے لگتا ہے ، اُس کی اونچی پگڑی کی شان مٹی میں ملنے لگتی ہے اور پھر وہ اپنی عزت بچانے کے لیے سیاہی کے داغ کو مٹا دیتا ہے، دُنیا اُسے غیر ت مند کہہ کر قتل ہمیشہ کے لیے بھُول۔
india-demonstrator-honor-killings
خاندان کی عزت کا معیار بیٹیوں کے کردار پر پر کھنے والے عزت کے نام پر اپنا قتل جائز قرار دے دیں تو حلفیہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی کردار کی سیاہی اس قدر پھیلی ہے کہ قتل ان کی نسل ختم کر دے۔ اس معاشرے کا مرد ایسی تمام برائیوں کے ساتھ معتبر ہے تو پھر کرا چی کی سمیر ا کی کہانی نئی کیے ہو گئی ، یہ کہانی ،اس کی کردار سب پرانے ہیں ۔ اُس کو قتل کرنے والا بھائی ، قتل کی تائید کرنے والا باپ ، بیٹا اور ماموں سب پرانے قصے کی نئی کڑایاں ہیں۔ سمیرا جیسی کئی بہنیں ماضی میں بھی بد قماش بھائیوں کی غیرت کا نشا نہ نہیں۔اس ملک کے قوانین ہمیشہ بنتِ حوا کی بے بسی اور ابنِ آدم کی شیطان صفت کو ایک ترازو میں رکھ کر تولتے رہے۔
honour_killing4164ہاں بہن کا قتل بھائی کو اس لیے معاف کر دیا جاتا ہے کہ باپ بیٹی کے قتل کو حق بجانب سمجھتا ہے۔یہاں شوہر اس لیے مظلو م قرار دیا جاتا ہے کہ وہ بیوی کا مختار کل ہے اور یہاں شرمین عبید چنائے کو اس لیے بُرا کہا جاتا ہے کہ وہ ہمارے شیطان صفت ابنِ آدم کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرتی ہے۔ دنیا کو دکھاتی ہے کہ دیکھو یہاں عزت کے فیصلے اپنے نہیں بہنوں اور بیٹیوں کے کردار سے ہوتے ہے یہاں عزت کے نام پر قتل کرنے والا مرد معصوم ہے کیونکہ اُس کا عمل گھر کے عزت کے لیے تھا۔
honor-killing-honor-violence-700x466
یہاں ابنِ آدم سے سوال پوچھنے والا ہر شخص غلط ہے جو پوچھتا ہے کہ تم چورا ہوں ، گلی ، محلوں میں لوگوں کی بیٹیوں کو گندی نگاہ سے دیکھتے ہوتو کیا اس لیے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کہ پڑھنے یا کام پر نہیں جانے دیتے وہ بھی غلط ہیں جو پوچھتا ہے کہ تم کیوں لوگوں کی بیٹیا ں گھروں سے اُٹھا کر ہوس کا نشانہ بناتے ہو اور پھر جلا ڈالتے ہو ، یہا ں کے سفاک ، جاہل اور بدکردار مرد سے پوچھا گیا ہرال غلط ہے، مگر اے ابنِ آدم جواب دوگے کہ تم رات کوٹھے پر گزار کر بھی معتبر کیوں ٹہرے اور حوا کی بیٹی صرف تمہاری ضد کے آگے ہارنہ مان کر خاندان کے لیے کلنک کا ٹیکہ کیسے بنی۔

Thursday, 27 April 2017

Pehle Barish Hoti Thi To Yaad Aty The

Pehle Barish Hoti Thi To Yaad Aty The
Ab Jab Yaad Aty Ho To Barish Hoti Hai...

Hum Ne Har Dukh Ko Muhabbat Ki Anayat Samjha

Hum Ne Har Dukh Ko Muhabbat Ki Anayat Samjha
Hum Koi Tum The K Tum Se Shikayat Karte...


Thursday, 16 March 2017

Message for Girls

مجھے اس وقت بھی رونا آیا تھا جب آج سے 15 سال پہلے انٹرنیٹ کیفے سکینڈل کے باعث اکلوتی بیٹی کی پنکھے سے لٹکی لاش سے باپ لپٹ کر زارو قطار رو رہا تھا مجھے اس وقت بھی رونا آیا جب ایک خبیث لڑکے نے ایک لڑکی سے ناراضگی پر اس کی برہنہ ویڈیو اپ لوڈ کردی اور اس بے چاری کو اپنی نبض کاٹ کر دنیا سے جانا پڑا مجھے اس وقت بھی رونا آیا جب ایک لڑکی ایک لڑکے کے سامنے بے لباس رو رہی تھی کہ میری ویڈیو ڈیلیٹ کردو اور وہ کہہ رہا تھا کہ میرے دوستوں کو بھی خوش کرو اور اس رات وہ چھت سے کود کر مر گئی مجھے اس وقت بھی رونا آیا جب ایک لڑکی سہیلی کے ہمراہ اپنے محبوب سے ملنے گئی اور وہاں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بن کر سسک سسک کر مر گئیں اور ہسپتال والوں نے جب فون کیا تو والدین نے کہا ہماری تو کوئی بیٹی ہی نہیں مجھے اس دن بھی رونا آیا جب ایک لڑکی کو اس کےمحبوب نے نشہ آور جوس پلا کر اپنے دوستوں کے سامنے پیش کیا اور اس غم کی ماری نے ایک ٹرک تلے آکر جان دیدی مجھے ان سب لڑکیوں کی حالت پر رونا آتا ہے جو گھر سے محبوب کو ملنے نکلتی ہیں اور آج کسی قحبہ خانے میں موت کی دعائیں مانگ رہی ہیں یاد رکھیں مرد تو جسم کا بھوکا ہے وہ عورت کو نوچ بھی لیتا ہے کاٹ بھی لیتا ہے اسے انسان سے کتا بننے میں دیر نہیں لگتی لیکن اسے ایسا بننے کا موقع عورت دیتی ہے اور سمجھتی ہے کہ میری عزت کا رکھوالا بنے گا لیکن وہ جانتی نہیں کتا وفادار ہوتا ہے لیکن مرد کتا بن جائے تو بہت خطرناک ہوتا ہے اس لئے بچ کر رہیں ہر مرد مرد نہیں ہوتا کچھ شیطان بھی ہوتے ہیں .
.
 تحریر زریاب شیخ

Tuesday, 28 February 2017

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا
کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا

جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں
بدن کو ناؤ لہو کو چناب کر دے گا

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا

انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے
وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا

سکوت شہر سخن میں وہ پھول سا لہجہ
سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا

اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم
سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا

مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا

More from PARVEEN SHAKIR